فلم، ریڈیو اورٹی وی کے ناموراداکارعلی اعجاز انتقال کرگئے

لاہور: فلم، ریڈیو اور ٹی وی کے مایہ ناز اداکارعلی اعجاز دل کا دورہ پڑنے سے 77 برس کی عمرمیں انتقال کرگئے۔پاکستان کے مایہ ناز اداکارعلی اعجاز نے فلم، ریڈیو اور ٹی وی پر اپنی قابلیت اور فن کا مظاہرہ خوب کیا۔ وہ مزاحیہ ہیرو کے طورپر بہت مقبول ہوئے، انہوں نے 1961ء میں فلم ’انسانیت‘ سے فنی کیریئر کا آغازکیا۔ علی اعجاز کی مشہور فلموں میں ’سالا صاحب‘ اور ’دبئی چلو‘ کا شمارہوتا ہے جبکہ مشہور ٹی وی ڈراموں میں ’خواجہ اینڈ سن، کھوجی اور شیدا ٹلی‘ شامل ہیں۔اداکارعلی اعجازکی سماجی فلم ’دبئی چلو‘ سپرہٹ رہی۔ علی اعجاز کا شمار پاکستان کی پنجابی فلموں کے سپراسٹارز میں ہوتا تھا۔ علی اعجاز کی اداکار ننھا مرحوم کے ساتھ جوڑی بے حد مقبول ہوئی ۔علی اعجاز نے ٹی وی ڈراموں میں بھی ان گنت یادگارکردار نبھائے۔ 80ء کی دہائی میں ان کی فلموں نے ریکارڈ بزنس کیا اور پر کئی پرپنجابی فلموں کے مقبول گیت فلمبند ہوئے جن کوعوام میں بہت پزیرائی ملی۔

نصیرالدین شاہ نے کوہلی کو دنیا کا ’’بدتمیز ترین‘‘ کھلاڑی قرار دیدیا

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار نصیر الدین شاہ نے بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کو دنیا کے بہترین بلے باز مگر بدترین کھلاڑی قرار دے دیا۔اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں نصیر الدین شاہ نے ویرات کوہلی کو بداخلاق اوربدتمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوہلی کے رویے نے ان کے شاندار کرکٹ کے کیریئر کو داغداربنا دیا ہے۔واضح رہے کہ پرتھ میں جاری بھارت بمقابلہ آسٹریلیا ٹیسٹ میچ کے پہلے چند دنوں میں ویرات کوہلی آسٹریلوی کھلاڑی سے لفظی جنگ کرتے رہے جب کہ ٹیسٹ کے چوتھے روز وہ پورا دن آسٹریلوی کپتان ٹم پائن سے الجھتے رہے یہاں تک کہ درمیان میں امپائر کو مداخلت کرنا پڑی۔خود بھارت میں بھی کوہلی کے اس رویے نے ان کے مداحوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے جبکہ آسٹریلوی شائقین ویرات پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

سارہ علی خان کی پہلی فلم’کیدرناتھ‘30 کروڑ سے زائد کا بزنس کرچکی ہے

ممبئی: بالی ووڈ کے چھوٹے نواب سیف علی خان اپنی بیٹی سارہ علی خان کی پہلی فلم ’کیدرناتھ‘ کی کامیابی پر بے انتہا خوش ہیں۔فلم ’کیدرناتھ‘ کے ذریعے بالی ووڈ میں شاندار انٹری دینے والی خوبصورت اداکارہ سارہ علی خان کو اداکارہ عالیہ بھٹ کے بعد بھارتی فلم انڈسٹری کی نئی سپر اسٹار کہا جارہا ہے۔ سیف علی خان بھی ’کیدرناتھ‘میں اپنی بیٹی کی بہترین پرفارمنس دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔بھارتی میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران سیف علی خان کا کہنا تھا کہ سارہ نے’ کیدرناتھ‘ میں ان کی سوچ سے زیادہ بہتر اداکاری کی ہے، میں اپنی بیٹی کے لیے بہت خوش ہوں، فلموں میں کام کرنے کا فیصلہ سارہ کا تھا اور اس نے اپنی پرفارمنس سے اپنے فیصلے کو صحیح ثابت کردیا۔ سارہ کی کارکردگی شاندار ہے میں اپنی بیٹی کا بہت اچھا مستقبل دیکھ رہاہوں۔ سیف علی خان نے کہا کہ لوگوں نے بھی سارہ کی اداکاری کو قبول کرکے اسے بالی ووڈ میں خوش آمدید کہاہے۔واضح رہے کہ صرف سیف نہیں بلکہ سارہ کی سوتیلی والدہ کرینہ کپور اور پھوپھی سوہا علی خان بھی سارہ کی اداکاری کی معترف ہوگئی ہیں۔ کرینہ نے ’کیدرناتھ‘کی ریلیز سے قبل ہی کہہ دیاتھا کہ مجھے یقین ہے فلم شائقین کو ضرور پسند آئے گی اور باکس آفس پر اچھا بزنس کرے گی، سارہ پیدائشی اسٹارہے۔سوہا علی خان نے بھی سارہ کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہاتھا کہ سارہ کانفیڈنٹ اور باصلاحیت ہے اس نے اپنے کیریئر کے آغاز کے لیے بہترین فلم کا انتخاب کیا۔ واضح رہے کہ سارہ علی خان کی پہلی فلم’کیدرناتھ‘30 کروڑ سے زائد کا بزنس کرچکی ہے ۔

بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر کمیشن قائم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر کمیشن قائم کرکے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 بینچ نے بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں پانی کے بحران سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں بھاگ ناڑی میں پانی کے تالاب کی ویڈیو چلائی گئی۔وڈیو دیکھ کر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تالاب سے گدھوں پر پانی لے جایا جاتا ہے، حکومت بلوچستان یہ ویڈیو دیکھے، اس طرح کا پانی لوگوں کو پلا رہے ہیں، یہ پانی لوگوں کو پلا کر ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، کسی نے آر او پلانٹ نہیں لگایا۔ڈی سی بولان نے عدالت کو بتایا کہ سارے مسائل کی وجہ علاقے میں پانی کی کمی ہے، از خود نوٹس کے بعد صوبائی کابینہ نے 7 کروڑ 50 لاکھ کی منظوری دے دی ہے۔بھاگ ناڑی کے مکین نے عدالت کو بتایا کہ ہماری حالت تھر سے بھی بدتر ہے، کوئٹہ سے ہمارا علاقہ دو سو کلومیٹر دور ہے، بھاگ ناڑی میں واٹر سپلائی اسکیم 2000 سے غیرفعال ہے ، پانی کی کمی کی وجہ سے علاقہ کی آبادی دو لاکھ سے 73 ہزار رہ گئی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ متعلقہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ پانی کو صاف کریں، کم ازکم تالاب کا پانی ہی ٹریٹ کر دیں۔ بھاگ ناڑی کے علاوہ بھی کئی علاقوں میں پانی کی یہی صورتحال ہے۔دوران سماعت رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ نوٹس لینے پر عدالت کے شکرگزار ہیں، انہوں نے ذاتی اخراجات پر ٹیوب ویل شروع کروایا، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت علاقے میں واٹرسپلائی سکیم کی انکوائری کروائے۔سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی کی سربراہی میں کمیشن قائم کرکے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔ اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ نے ایک ماہ میں بھاگ ناڑی میں آر او پلانٹ نصب کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے صدر کو ہدایت کی کہ جہاں جہاں ایسے حالات ہیں مجھے رپورٹ بنا کر دیں، کمیشن بلوچستان میں پانی کی صورتحال سے آگاہ کرے گا، کمیشن رپورٹ پر حکومت سے عملدرآمد کا ٹائم فریم لیں گے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تھرمیں کسی نے آراوپلانٹ کا پانی پینے کی کوشش نہیں کی؟ ، رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ تھر کی کوئی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نہیں ہے، اتھارٹی کے قیام تک تھر کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

لڑکی کی محبت میں گرفتار شخص، 50 روز سے اس کا منتظر

بیجنگ: چینی سوشل میڈیا میں ایک شخص کا تذکرہ عروج پر ہے جس نے ایک خوبصورت لڑکی کو کتابوں کی ایک دکان میں دیکھا اور نظریں ملائیں۔ اب اس شخص نے اپنی نوکری چھوڑ کر روز دکان میں اس امید پر آنا شروع کردیا ہے کہ کبھی نہ کبھی تو وہ خاتون اس دکان کا رخ کریں گی۔26 سالہ شخص نے بتایا کہ ستمبر کا کوئی دن تھا جب وہ کتابوں کی دوکان میں گئے اور انہیں اپنے خوابوں کی شہزادی ایک لڑکی نظر آئی جس سے ان کی 10 سیکنڈ تک آنکھیں ملیں اور وہ اسے دل دے بیٹھے اور وہ کہتے ہیں کہ پہلی نظر میں ہونے والی محبت بھی بہت طاقتور ہوتی ہے۔ اب انہیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک روز وہ دوبارہ اس لڑکی سے ضرور ملیں گے۔لڑکی کی تلاش میں انہوں نے ملازمت چھوڑدی ہے اور بیجنگ کے مشہور بک اسٹور میں روز صبح 11 بجے پہنچ جاتے ہیں اور شام سات بجے دوکان بند ہونے کے بعد وہاں سے نکلتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ ایک روز لڑکی سے ملیں گے اور اسے اپنا حال ضرور سنائیں گے۔ صرف اسی پر بس نہیں اس نے اپنی یادداشت کی بنا پرہاتھوں سے بنا لڑکی کا ایک خاکہ بھی بنایا ہے اور وہ اسے ہر آنے جانے والے کو دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نظر ملاکر مسکرانے پر لڑکی کی جانب سے جذباتی طور پر ٹھیس لگانے پر اس پر غائبانہ طور پر مقدمہ کرنے کی کوشش بھی کرچکے ہیں۔شخص نے بتایا کہ جب اس نے اس نامعلوم لڑکی کو دیکھا تو وہ خود ایک خاتون کے ساتھ تھا اور اسی بنا پر دوسری لڑکی سے نظر ملانے کے باوجود کوئی پیش قدمی نہیں کی تاکہ اس کے ساتھ آنے والی لڑکی کو برا نہ لگے۔ دس سیکنڈ تک دونوں کی آنکھیں ملیں اور اسی بنا پر وہ اس کے عشق میں گرفتار ہوگئے۔ اس کے بعد وہ اس لڑکی کا خیال دل سے نہ نکال سکے۔بیروزگاری کے بعد وہ روزانہ اس بک اسٹور پر آتے ہیں اور دوستوں سے قرض لے کر اپنا خرچ پورا کررہے ہیں۔ اب 50 دن سے بلاناغہ کتابوں کی دکان میں پورا دن گزارتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اسے ضرور ملے گی۔

محکمہ زراعت کا احسان: پریشان حال چھوٹے کسان

’روٹی بندہ کھا جاندی اے‘ پنجابی کا یہ مشہور فقرہ آپ کو سچ نظر آئے گا اگر آپ بے چارے چھوٹے کسانوں کی حالت زار کا اندازہ لگائیں گے۔ گزشتہ ادوار میں بھی شاید ایسا ہی ہوتا ہو، مگر موجودہ دور میں آئے روز کوئی نہ کوئی کسان روزی روٹی کی نذر ہورہا ہے۔ چاہے ہماری طرف ہو یا بارڈر کے دوسری طرف۔ تقسیم کے بعد سے دونوں ملکوں کے چھوٹے کسان مایوسیوں کی نذر ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ہر گزرتا دن ان محنتی اور جفاکش کسانوں کےلیے نئی پریشانیاں لاتا ہے۔ زندگی ہل چلاتے گزر جاتی ہے مگر قرض کا بوجھ ہے کہ کم نہیں ہوتا۔ کتنے دکھ اور تکلیف کی بات ہے کہ وہ کسان جو لوگوں کےلیے غذا و اجناس کاشت کرتے ہیں، وہ خود اپنے خاندان کی اچھی کفالت نہیں کر سکتے، ان کی اچھی پرورش نہیں کرسکتے، نہ ہی معیاری تعلیم دلا سکتے ہیں، نہ ہی بہتر طبی سہولتیں مہیا کرسکتے ہیں۔ روٹی، جس کے بغیر انسانی زندگی ناممکن ہے، اس کی کاشت کرنے والا آج سماج میں سب سے زیادہ بدحال ہے۔ اس کے برعکس کپڑا اور مکان بنانے والا سماج میں بڑی کاروباری شخصیت تصور ہوتا ہے۔ شاید زمانے کی رفتار نے کسان کی اہمیت و قدر کو بھی کھو دیا ہے۔
پاکستان کا زیادہ تر رقبہ زرعی و دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ شعبہ زراعت سے وابستہ ہیں۔ لیکن بدلتی صورتحال اور ضروریات کی بدولت لوگ اس شعبے کو ترک کر کے دیگر شعبوں سے منسلک ہو رہے ہو۔ اس بدلتی صورتحال کی وجہ سے پاکستان زرعی لحاظ سے اپنے ہم پلہ زرعی ملکوں سے زراعت کے شعبے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ شاید یہ فرق آئندہ برسوں میں مسلسل بڑھتا جائے۔
پاکستان میں زیر کاشت زرعی رقبہ زیادہ تر چھوٹے کسانوں کا ہے۔ ایسے کسانوں کی اکثریت ہے جن کے پاس چند کنالوں سے لے کر بیس ایکڑ تک زرعی رقبہ موجود ہے۔ یہی کسان ہماری زراعت میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ یہی وہ کسان ہیں جو برسوں سے پریشان حال و بدحال بھی ہیں۔ زمانے کی اس تیزی نے ان کسانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کی کاشت کردہ اجناس سے حاصل شدہ معاوضہ ان کی روزمرہ کی ضرورتوں کی نسبت بہت کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آئے روز ان کی ضرورتیں ان کے روزگار کو دھکیلتے ہوئے برق رفتاری سے آگے بڑھتی جارہی ہیں۔ قرضوں کے بوجھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ بعض کسانوں کے حالات ایسے ہیں کہ برسوں سے ان پر قرضوں کا بوجھ چلا آرہا ہے۔ ان کے باپ دادا بھی اسی قرض کے بوجھ کو کم کرتے کرتے اپنی زندگی تمام کرگئے۔ کچھ کو اپنی گزشتہ نسلوں سے قرض زدہ وراثتی زمینیں ملی ہیں جن کے بدلے وہ اپنے بزرگوں کو بددعائیں تو نہ دیتے ہوں، لیکن کوستے ضرور ہوں گے۔
بعض مفکرین کے نزدیک شعبہ زراعت سے وابستہ یہ متوسط طبقہ شروع ہی سے پریشان حال چلا آرہا ہے۔ ہر حکومت کی ترجیحات میں شہراور شہری مسائل ہی شامل رہے ہیں۔ بعض کے نزدیک نہ صرف حکومت بلکہ نام نہاد تنظیموں، حتی کہ میڈیا کی ترجیحات میں بھی شہری مسائل اور ان کا حل ہی رہا ہے۔ کم علم ہونے کی بدولت یہ متوسط طبقہ اپنے حق کےلیے آواز اٹھانے میں بھی ناکام رہا ہے۔دوسری طرف سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات میں بھی شہر اور شہری آبادی شامل رہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں اور حکومت کو تو صرف اپنی شہرت اور ووٹ حاصل کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا شعبہ زراعت، ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہو یا پھلے پھولے۔ اقتدار کا لالچ ہمیشہ سے زرعی علاقوں کو نظرانداز کرتا چلا آیا ہے۔ واقعی اس میں کسانوں کی اپنی کم علمی اور بڑی غلطیاں بھی شامل ہیں۔ کسی بھی حکومت نے اس متوسط طبقے کی خودمختاری کےلیے صدق دل سے کبھی کچھ کیا ہی نہیں۔ قرضوں کی نت نئی اسکیمیں متعارف کروائی جاتی ہیں جس کے جال میں پھنس کر چھوٹا کسان اپنی زندگی ذہنی اذیتیوں کی نذر کر دیتا ہے۔ کروڑوں اربوں کی سبسڈیاں نہ جانے کہاں چلی جاتی ہیں، کبھی کسی چھوٹے کسان کو براہ راست کسی سبسڈی کا فائدہ نہیں پہنچا۔ بلکہ، اس کے برعکس، بڑے ذخیرہ اندوز اور بڑے جاگیردار ہی اس سے مستفید ہوتے چلے آرہے ہیں۔ اس جاگیردارانہ نظام میں ڈنڈیاں مارنے کا سلسلہ بھی بہت پرانا ہے، جس میں محکمہ زراعت ہمیشہ سر فہرست رہا ہے۔
اس کرپٹ نظام میں چھوٹے کسان کا ہمیشہ بھرکس ہی نکلتا رہا، جو آج بھی اسی رفتار سے جاری و ساری ہے۔ کھادوں اور دواؤں کے بڑھتے نرخ، چھوٹے کسانوں کو اسی زہر کو پی کر زندگی کے خاتمے کی طرف اکساتے ہیں۔ ڈیزل کے بڑھتے ریٹ، کسانوں کو خود پر چھڑک کرآگ کی نذر ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ زرعی آلات کی قیمتیں اور ان کے معیار، کسانوں کو ٹریکٹر کے نیچے دب کر کٹھن حالات سے چھٹکارے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آخر میں فصلوں کے نامناسب ریٹ، کسان کو ایسی فصل کے ساتھ ہی دفن ہونے کی طرف راغب کرتے ہیں جس سے کسان کے خون پسینے کا ازالہ نہ ہو، جس سے وہ اپنی اولاد کی پرورش نہ کر سکیں۔کسان تو آئے روز ویسے ہی مرتا ہے لیکن ’مڈل مین‘ یعنی کاروباری اشرافیہ کے روپ میں ڈیلرز وغیرہ نے تو کسانوں کو جیسے راکھ کرنے، انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہو۔ یہ وہ متحرک گروہ ہے جو براہ راست کسانوں کی فصلوں کے ریٹس کو کنٹرول کرتا ہے۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسان انہیں یہ فصل اونے پونے بیچ جائے۔ ذخیرہ اندوزی ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔
ہمیشہ سے حکومت اور اس کا چہیتا محکمہ زراعت اس سارے معاملے میں غفلت کی نیند ہی سویا رہا۔ من مانیاں اس محکمے کا جیسے فرض ہو۔ زمانہ ادھر سے ادھر ہو گیا ہے، دنیا میں جدت آگئی ہے۔ زراعت کے شعبے میں بڑی ترقی ہوئی لیکن مجال ہے کہ ہمارا محکمہ زراعت کبھی اپنی شاہانہ سستی کم کرنے لیے ٹس سے مس بھی ہوا ہو۔کم آگاہی اور جدید مشینیری کی کمی کی وجہ سے ہمارے کسان آج بھی وہی چاول کی فصل، وہی گندم کی فصل اور دیگر اجناس اگا رہے ہیں جو برسوں پہلے ان کے آبا و اجداد لگایا کرتے تھے؛ اور وہی پیداواری اوسط نکل رہی ہے جو آج سے کوئی دس برس قبل ہوا کرتی تھی۔ وہی پرانی چند ٹریکٹرز کمپنیاں آج بھی راج کررہی ہیں جو برسوں پہلے تھیں۔ کسان وہی پرانی طرز کی مشینری خریدنے پر مجبور ہیں جو دنیا نے برسوں پہلے استعمال کرنا بھی چھوڑ دی تھیں۔ وہی لاعلم کسان جنہیں صرف یہی علم ہے کہ لال رنگ کی دوا ڈالنی ہے اور سفید رنگ کی کھاد، انہیں کچھ علم نہیں کہ زمین کا کوئی چیک اپ بھی ہوتا ہے، جس سے زمین کی زرخیزی کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر رپورٹ کے مطابق انہیں کیمیکلز یعنی دوائیں ڈالنا ہوں گی۔ لیکن ہمارا لاڈلہ محکمہ زراعت اور ہماری مفاد پرست حکومتوں کے نزدیک شاید اس بارے آگاہی اور کام کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئی ہو؛ کیونکہ بڑے جاگیردار اور اشرافیہ تو آج بھی جدید طریقہ کاشت کاری سے مستفید ہو رہے ہیں۔ معاملہ تو صرف ان کسانوں کا ہے جن کے ووٹ خریدے جا سکتے ہیں، گلی نالیوں اور چھوٹے موٹے لالچ کے برعکس۔
آخر کون دیکھے گا کہ محکمہ زراعت کی کارکردگی کیا ہے؟ اس محکمے کا کردار کیا ہے؟ کون یہ طے کرے گا کہ اکثریت میں موجود چھوٹے بدحال و پریشان کسانوں کےلیے کچھ کرنا ہے؟ کب وہ وقت آئے گا جب محکموں پر لاڈلوں کی چھاپ ختم ہو گی؟ کب یہ محکمہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوگا؟ چھوٹے کسانوں کے زخموں پر کون مرہم رکھے گا؟ آخر کب تک یونہی سبسڈی کے نام پر کرپشن کے مینار کھڑے ہوتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہماری معیشت اور زراعت مفادات کی نذر ہوتی رہیں گی؟
موجودہ حکومت پر عوام کو اعتماد ہے، حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس سنگین مسئلے پر کام سے لگایا جا سکتا ہے جسے گزشتہ حکومتیں مسئلہ ہی تصور نہیں کرتی تھیں۔ میرا اشارہ آبی مسئلے کی طرف ہے جس کے تحت حکومت ڈیم فنڈ اکٹھا کر رہی ہے۔ حکومت نے جلد از جلد نئے ڈیموں تعمیر کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے جو زراعت کی مضبوطی کےلیے مفید ترین ثابت ہوگا۔ مہنگائی کے اس دور میں گندم کی بوائی سے پہلے کھادوں، دواؤں اور ڈیزل کے بڑھتے ریٹ چھوٹے کسانوں پر ایٹم بم گرانے کے مترادف ہیں۔ حکومت کو کسانوں کی مجبوریاں سمجھتے ہوئے انہیں سہولتیں مہیا کرنی چاہئیں۔ کسانوں کو آپ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت گزشتہ حکومتوں کی طرح عوام کو مایوس نہیں کرے گی۔ وگرنہ رفتہ رفتہ شعبہ زراعت سے لوگوں کا دل اٹھتا چلا جائے گا جس کے نتیجے میں زراعت کی تنزلی اور ہماری معیشت کی کمزوری بڑھتی جائے گی۔ ذرا سوچئے!
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہٴ گندم کو جلا دو

سی این جی کی بندش کا چوتھا روز؛ شہریوں کا بسوں پر لٹک کر سفر

کراچی: کراچی میں سی این جی کی بندش چوتھے روز بھی جاری رہی، گیس فیلڈز سے سپلائی میں کمی کی بنا پر کی جانے والی بندش سسٹم میں 640 ایم ایم سی ایف ایل این جی شامل ہونے کے باوجود جوں کی توں برقرار رہی اور سی این جی اسٹیشن بند ہونے سے پبلک نہ ہونے کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا رہا۔کراچی چیمبر آف کامرس کا الٹی میٹم اور سی این جی اسٹیشن مالکان کا احتجاج بھی کراچی کے شہریوں کے لیے سی این جی کی فراہمی ممکن نہ بنا سکا۔ شہر میں سی این جی اسٹیشن چوتھے روز بھی بند رہے پبلک ٹرانسپورٹ انتہائی کم ہونے سے شہریوں نے بس کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کیا جس کو چھت پر جگہ نہ ملی اس نے حفاظتی جنگلوں، کھڑکی دروازوں پر لٹک کر سفر کیا۔اسکول وینز کی بڑی تعداد نے بھی بچوں کو اسکول لانے لے جانے کی سروس معطل کردی جس سے والدین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، سی این جی پر چلنے والے رکشے پیٹرول پر چلائے جانے سے کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا 20 روپے سے بڑھاکر 40 روپے اور 40 سے بڑھاکر 60 روپے تک کرایہ وصول کیا گیا، بس اسٹاپس پر شہریوں کا رش لگا رہا اور مسافر گھنٹوں بسوں کی راہ تکتے رہے، بسیں نہ ہونے کی وجہ سے شہری کمرشل لوڈنگ گاڑیوں سوزوکی پک اپ، شہزور اور مزدا ٹرکوں میں بھی سفر کرنے پر مجبور ہوگئےْ۔ادھر دفاتر اور بازاروں کے لیے جانے والی خواتین کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح کالج اور جامعات کو جانے والی طالبات نے بھی مشکلات کا سامنا کیا،شہریوں نے سوال کیا کہ سب سے زیادہ گیس پیدا کرنیوالے صوبے اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہریوں کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی نے جیسے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔سی این جی کب کھلے گی سوئی گیس حکام نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی امید نہیں دلائی ، حکام کے مطابق حکومت کی دی گئی پالیسی میں سی این جی کو سب سے کم ترجیح حاصل ہے گیس پر گھریلو صارفین کا پہلا حق ہے اس لیے سی این جی کی بندش۔ ناگزیر ہے۔دوسری جانب پورٹ قاسم پر درامدی ایل این جی ٹرمینل نے پلانٹ کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی بندش کا دورانیہ گیس کی قلت کے پیش نظر 24 گھنٹے تک محدود کردیا اور 11 بجے دن سے 640 ایم ایم سی ایف درامدی ایل این جی سسٹم میں داخل کرنا شروع کر دی تاہم کراچی سمیت سندھ بھر میں سی این جی کی صورتحال جوں کی توں برقرار رہی۔ٹرمینل کی بندش کی وجہ سے یہ بات سامنے ائی تھی کہ سندھ کی گیس ایل این جی کے،متبادل کے طور پر پنجاب کو دی جارہی ہے۔ سی این جی کی جمعہ کو فراہمی تاحال غیر یقینی ہے سوئی سدرن گیس حکام کا کہنا ہے کہ گیس کا مطلوبہ پریشر حاصل ہونے تک سی این جی بند رہے گی۔سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی بندش اورمعاشی حالات سے تنگ ڈرائیور نے رکشا کو آگ لگا دی، پولیس نے رکشا ڈرائیور کو گرفتار کرلیا، تفصیلات کے مطابق گلبہارتھانے کی حدود ناظم آباد نمبر 2 انکوائری آفس کے قریب ناظم آبادملنگی ہوٹل کے قریب رہنے والے ڈرائیو 25 سالہ ریحان ولد غلام رسول نے سی این جی گیس اسٹیشنوں کی مسلسل بندش کے باعث معاشی حالات سے تنگ آ کر اپنے رکشے کو آگ لگا دی، پولیس موقع پر پہنچ گئی اور رکشا ڈرائیور کوحراست میں لے کر پوچھ گچھ کے لیے گلبہار تھانے منتقل کر دیا۔تفتیش کے دوران رکشا ڈرائیور ریحان نے پولیس کو بتایا کہ5 ماہ قبل اس نے رکشا خریدا تھا اور مسلسل 5 روز سے سی این جی کی بندش کے باعث وہ بہت پریشان تھا جبکہ اس نے 2 ماہ سے گھرکاکرایہ بھی ادا نہیں کیا ہے جس کے باعث مالک مکان آئے دن اسے پریشان کرتا ہے۔ریحان کا کہنا تھا کہ اس نے سی این جی گیس کی مسلسل بندش، مالک مکان کی جانب سے گھرخالی کرانے کی دھمکی اورمعاشی حالات سے تنگ آکر خودکشی کا سوچا مگر ہمت نہ ہونے کی وجہ سے رکشے کوہی آگ لگا دی۔

معروف نعت خواں جنید جمشید کی دوسری برسی آج منائی جا رہی ہے

کراچی: معروف نعت خواں جنید جمشید کی دوسری برسی آج (جمعے کو) منائی جا رہی ہے۔جنید جمشید 2 سال قبل طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے تاہم آج (جمعے کو) ان کی منائی جا رہی ہے۔ جنید جمشید 3 ستمبر 1964 کو پیدا ہوئے، لاہور یونیورسٹی آف انجینئرنگ سے ڈگری لینے کے بعد انھوں نے ’’وائٹل سائنز‘‘ کے نام سے میوزیکل گروپ بنایا، ملی نغمے ’’دل دل پاکستان‘‘ نے جنید جمشیدکو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔2004 میں جنید جمشید نے موسیقی کو خیرباد کہہ دیا اور گلوکاری چھوڑ کر نعت خوانی کی جانب راغب ہو گئے، جنید جمشید کی پڑھی گئی نعتوں کو بھی بے انتہا مقبولیت ملی۔واضح رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو وہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ حویلیاں کے قریب پی آئی اے کا اے ٹی آر ساختہ طیارہ حادثے کے نتیجے میں گرکر تباہ ہوگیا، حادثے میں دیگر مسافروں کے ساتھ جنید جمشید بھی خالق حقیقی سے جا ملے۔