دل تو ہے دل۔۔۔۔!

انسان خالق لم یزل کی بہترین تخلیق ہے۔ اور اگر انسان غور کرے تو اُس کا جسم اپنے اندر ایک بہDil to Dil haiت وسیع وعریض سلطنت لیے ہوئے ہے۔ انسانی جسم کا ہر عضو ایک نعمت غیر مترکبہ ہے جس کا شکر وہ اس طرح تو ادا کر ہی نہیں سکتا جس طرح کہ شکر اداکرنے کا حق ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسا خوبصورت اور بہترین اور Perfectجسم اللہ نے انسان کو عطا کیا ہے اس کی حفاظت اور بقا کو یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ انسان کیلئے اس کے جسم کا ہر عضو خالق کی ایک نعمت ِ بیش بہاہے اس لیے نعمت کی قدر کرنا ضروری ہے اور اس میں تو انسان کا اپنا فائدہ ہے اگر Ignoreکرے گا تو ظاہر ہے بہت جلد اپنی خوبصورتی اور وضع قطع کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے گا۔ جہاں انسانی جسم کا ہرعضو ایک بے مثال اور نایاب عطیہ قدرت ہے وہا ں دل کو جسم میں بادشاہ کی اہمیت و حیثیت حاصل ہے۔ اور اگر کسی سلطنت کا بادشاہ کمزور ہو تو پھر حالات انتہائی دگر گوں ہوجاتے ہیں اور نظام حکومت درہم برہم ہوجاتا ہے۔دل جہاں شعرا کا مرکزسخن رہا ہے اور اہل دل نے اسے ایک دوسرے کے ساتھ دلوں کا تبادلہ(زبانی ) اور کیا کیا کچھ فرسودہ امور دل کے ساتھ منسوب کیے ہوئے ہیں۔ حالانکہ دل ایک آئینہ ہے اور اگر گناہوں سے صاف ہو تو کہتے ہیں اس میں خدا نظر آتا ہے خیر، قابل تشویش یہ بات ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے انسانی جسم Human beingجہاں اور مختلف بیماریوں اور خطرات سے دوچار ہے وہاں دل کی بیماریاں بہت شدت اختیار کر چکی ہیں۔ اور پاکستان میں بالعموم اور میرے ذاتی مشاہدے کے پیش نظر ضلع بھکر میں بالخصوص امراض قلب کی وجہ سے اموات کی شرح بہت بڑ ھ چکی ہے ۔یہ ایک ایسا لمحہ فکریہ ہے کہ جس پر غور و فکرکرنا ضروری ہے اور ان عوامل کی روک تھام اور ان سے آگاہی بے حد ضروری ہے جو ایسی امراض قلب جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بن کر کرہ ارض کو انسان کے خوبصورت وجود سے خالی کرنے پر تلی ہوئے ہیں۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر 40%انسان امراض قلب کا شکار ہیں۔ پاکستان میں 50%لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ امراض قلب سے متاثر ہیں۔ اور 46%مردوں جبکہ 38%خواتین ان امراض کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ایک گھنٹے کے دوران 12افراد اہارٹ اٹیک کی وجہ سے مر رہے ہیں۔(حوالہ دی نیوز مئی 17،2018)۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں دل امراض خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ قارئین کرام یہ تو ایک سروے رپورٹ ہے۔ امراض کا قلب کی بڑھتی ہوئی شرح نے انسانی زندگیوں کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ اور یہ بیماری اچانک اموات کا سبب بن رہی ہے۔ اگر آپ جائزہ لیں تو آپ کے گردونواح میں مرنے والے افراد میں اکثریت آج کل اس مرض میں مبتلا ہو کر دارِ فانی سے کوچ کرنے والوں کی ہو گی۔ حالانکہ انسان اپنے آپ کو ایک ترقی یافتہ دور میں پا چکا ہے اور وہ اپنی سہولت اور اپنے تئیں اپنی بقاکی انتہائی حدوں کو چھوتی ہوئی چیزیں ایجاد کر کے اپنے تئیں مطمئن ہونے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایسا لگ نہیں رہا۔غور طلب امر یہ ہے کہ جب اتنی سہولیات اور آسانیاں ہر شعبہ زندگی میں پیدا کر دی گئی ہیں تو پھر یہ دل کی بے سکونی کیوں ہے۔ آخر چین سکون ، آرام اور دل کا اطمینا ن کدھر گیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنی ان بے نام آرائشوں اور سہولتوں کی آڑ میں اپنی زندگیوں کیلئے ضروری لوازمات کو گنوا تے جارہے ہیں ۔جن میں ورزش ،پیدل چلنا، کم کھانا، کم سونا، ایک دوسرے سے میل ملاپ(گپ شپ)،خالص خوراک،(غذائی اجزا) ،صاف پانی،خوشگوار آب و ہوا اور ایک دوسرے میں غم درد میں شریک ہونا اور دوسرے تمام ایسے امور جو صحت انسانی اور جسم انسانی پر مثبت اور موثر اثر پذیر ہوں کو ترک تو نہیں کر دیا۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تفریح کے نام پر زیادہ تر وقت ٹی وی، انٹر نیٹ اور اب تو خیر موبائل نے سب کچھ ہی تباہ کر کے رکھ دیا ہے چار آدمی بیٹھے ہیں تو ایسے خاموش جیسے کوئی سانپ سونگھ گیا ہے مگر قریب جا کر دیکھیں تو ہر کوئی اپنے ٹچ موبائل پر جانے کونسی خواب و خیال کی دنیا میں مگن گردو نواح سے بے خبر لگا ہوا ہے۔ جہاں موبائل نے دنیا کو گلوبل ویلج بنا دیا ہے وہاں قریبیوں کو دور بھی کر دیا ہے۔ جس سے وقت تو گزر جاتا ہے مگر جسمBody کی فزیکل Maintainenceیعنی ضروریات پوری نہیں ہو پاتی۔ انسانی جسم کیلئے ورزش ضروری ہے۔ بچوں کیلئے کمپیوٹر اور موبائلز پر گیمز کھیلنے کے ساتھ ساتھ زمین پر کھیلنا کودنا اور بھاگنا دوڑنا بھی ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس شہر کے کھیل کے میدان آباد ہوں وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔ اس لیے بھکر میں اب نہ تو کوئی مناسب کھیل کے میدان نظر آتے ہیں اور نہ ہی ایسے صحت افزا پارک موجود ہیں جہاں ورزش یا بچوں کیلئے کھیلنے کے مواقع بطریق احسن موجود ہوں۔ جسم انسانی کیلئے صحت افزا ماحول کا ہونا بہت ضروری ہے جس کا دل پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ مناسب ورزش نہ کرنا اور کھیل کود سے دوری ۔اگر آپ گزشتہ سالوں کے جھرونکوں میں جھانکیں تو آپ کو دن کے پچھلے پہر عموماً شہروں میں اور خصوصاً دیہاتوں میں بچے ،جوان کرکٹ یا والی بال وغیرہ جیسے خوبصورت کھیلوں میں مصروف نظر آتے تھے اس طرح بزرگ شام کو چوپال (بیٹھک ) پر بیٹھے نظر آتے جس سے وہ نہ صرف اس وقت کے حالات حاضرہ کا تبادلہ کرتے بلکہ تھوڑ ا ایک خوشگوار ماحول بھی Createکیے ہوئے ہوتے تھے۔ مگر آج کل چونکہ پیدل چلنے کا رواج بھی ختم ہو چکا ہے اب بھی ڈاکٹر صحت کیلئے پیدل چلنے کو اچھا عمل قرار دیتے ہیں جس سے دل پر بھی Positiveاثر پڑتا ہے۔ رہی سہی کسر نت نئے کھلنے والے ریستوران نما ہوٹلز اور فاسٹ فوڈز نے پوری کر دی ہے۔ مرغن اور چکنائی سے لبریز غذائوں نے دل کی دنیا ہی اجاڑ کر رکھی دی ہے۔ دل جسم میں جہاں اور بہت سے امور سرانجام دیتا ہے وہاں یہ Body (جسم) کو خون کی فراہمی کا اہم ترین کام بھی سرانجام دے رہا ہے یہ ایک ایسا قدرتی پمپ ہے جو مسلسل چلے ہی جارہا ہے اگر یہ رک گیا تو سمجھو زندگی رک گئی۔ اس پمپ کی حفاظت کیلئے ضروری ہے کہ خون کے راستوں (شریانوں) نالیوں کو ایسی تمام چیزوں سے بچایا جائے جو ان میں جم کر رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں جس سے دل کو کام کرنے میں دشواری ہوتی ہے اور اس طرح دل کی رفتار کم یا زیادہ ہو کررک جاتی ہے اور یوں صورتحال ہارٹ اٹیک میں بدل سکتی ہے اور خدانخواستہ انسان موت کے منہ میں جاسکتا ہے۔تو ہمیں آج سے اپنی زندگی کی حفاظت کیلئے اپنا از سر نو جائزہ ہوگا ۔قارئین جان ہے تو جہان ہے۔ اور یہ سب کچھ تو آپ کے دم سے ہے ۔اس لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو سنواریں اور بچائیں اور اپنی حفاظت کریں کیونکہ آپ بہت خوبصورت ہیں اور نجانے کتنے آپ کے چاہنے والے ہوں گے جن کے آپ مدعا اور مقصد اور امیدوں کا مرکز ہیں۔ تو نہ صرف دوسروں کیلئے جئیں بلکہ اپنے لیے بھی آج سے جینا سیکھیں۔ اور اپنے رہن سہن ،خوراک، اور دیگر امور زندگی کا جائزہ لیں ۔اپنے لیے صبح کی سیر اور ورزش کو یقینی بنائیں۔ اچھی خوراک جو کہ چکنائی سے پاک ہو پر توجہ دیں۔ پھلوں خصوصاً سیب وغیرہ کے استعمال کوزیادہ کریں اور تمام قدرتی اجناس سبزیاں ،پھل دیگر میوہ جات کا استعمال صحت انسانی کیلے مفید ہے۔ پید ل چلنا بھی بہترین کام ہے۔ اور نمکیات اور مصالحہ جات کا استعمال کم کریں۔ صاف پانی پر توجہ دیں اکثر لوگ پینے کے پانی پر توجہ نہیں دیتے جس سے مختلف امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے ذکر خدا۔ کیونکہ اللہ خود فرماتا ہے کہ دلوں کا سکون تو ذکراللہ میں ہی ہے۔ اس لیے جہاں آپ نماز و دیگر عبادات کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھتے ہیں وہاںذکر خدا کو یقینی بنائیں یعنی اپنی عبادات کو عادات نہ بنائیں بلکہ ان کو اس خشوع وخضوع سے سرانجام دیں کہ دل اور روح کو تسکین ہو ۔اور دل کی تسلی و تشفی رہے اور یاد خدا سے دل روشن رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے منور رکھے اور آپ کو آباد و شاد رکھے۔ امید ہے آپ دل کی ضرور قدر کریں گے کیونکہ دل تو ہے دل دل کا اعتبار کیا کیجئے۔۔۔۔!
تحریر: ذاکر اسلم خان03347601254
Email:maslamkhanbk@gmail.com

Azanic AV Downloader

 

Azanic AV Downloader

Azanic Pvt (Ltd)نے ایک AV Downloaderکے نام سے ایک ویڈیو ڈون لوڈ بنایا ہے جس پر آپ فیس بک ،ویمو،لائیولیک،ڈیلی موشن،انسٹاگرام،ٹوٹیروغیرہ سے آپ ویڈیوز ڈونلوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کو گوگل پلے سٹور پر میسر ہے ۔Androidموبائلز کیلئے دستیاب ہے۔